گلبرگہ ، یکم جون: (ایس او نیوز /ایم اے حکیم شاکر) اہلیانِ کلیان کرناٹک کو حاصل 371 جے کی برخواستگی کے لئے کی جارہی سازش کے تدارک کی خاطر آج ڈویژنل ہیڈکوارٹر گلبرگہ میں کلیان کرناٹک سنگھرش سمیتی کے زیرِ اہتمام احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔جس میں مختلف تعلیمی اداروں، سرکاری اور نیم سرکاری کالجوں کے طلباء، گورننگ باڈی کے رہنماؤں، کالجوں کے پرنسپالس، پروفیسرس، دانشوروں، مفکرین، عوام نواز شخصیات، دلت، پسماندہ اور اقلیتی طبقات کے کارکنان کے علاوہ نوجوان طلبا، کسانوں کی تنظیم کے قائدین اورکئی ایک سماجی کارکنان کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔
بتایا جاتا ہے کہ بنگلورو میں کچھ دستور مخالف مفاد پرست عناصر، یہ جھوٹی خبریں پھیلا رہے ہیں کہ علاقہ کلیان کرناٹک(سابقہ نام حیدر آباد کرناٹک) کو دستور ہند کی ترمیمی فعہ 371 J کے تحت دی گئیں خصوصی مراعات و درجہ سے کرناٹک کے 24 اضلاع کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے۔ ا سے ایک سازش قرار دیتے ہوئے احتجاج منظم کیاگیا تھا جس میں احتجاجیوں نے آرٹیکل 371 جے کے خلاف بنگلور میں ہو رہی سازش کی مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ آئین مخالف سرگرمیوں میں مُلَوَّث تنظیموں پر پابندی عائد کرے احتجاج میں ہزاروں طلبہ بشمول اساتذہ کرام، غیر تدریسی عملہ اور دیگر معززین نے وسیع دائرہ پر محیط انسانی زنجیر سے مکمل چوراہے کو گھیر لیا اور بڑے پیمانے پر احتجاج منظم کیا۔ احتجاج کے اختتام پر 371 جے کے مخالف اٹھائی جارہی آواز کو بے بنیاد اور غیر دستوری قرار دیتے ہوئے عزت مآب گورنر ریاست کرناٹک کو ایک یادداشت بہ تَوَسُّط ڈپٹی کمشنر گلبرگہ دی گئی اور گزارش کی گئی کہ دستور کے خلاف اٹھائی جانے والی ہر آواز کو فوری دبا دیا جائے اور انصاف رسانی کو یقینی بنانے کے لئے دستور کا احترام اور اس کا پاس و لحاظ سب پر واجب کیا جائے۔
تعلیمی اداروں کے سربراہان اس عظیم جدوجہد کے روحِ رواں رہے۔ جس میں قابلِ ذکر حیدرآباد کرناٹک ایجوکیشن سوسائٹی کے صدر مسٹر ششیل جی نموشی، شرن بسویشور ودیا وردھک سنگھ کے سکریٹری مسٹر بسوراج دیش مکھ، القمر کالج آف نرسنگ کے کارگزار صدر جناب اسد علی انصاری، کرناٹک پیپلز ایجوکیشن سوسائٹی کے سکریٹری شانتاپا سورن اور چندر شیکھر شیلا ونتھ کے بشمول کئی تعلیمی اداروں کے نمائندے موجود تھے۔۔ پرتاپ سنگھ تیواری، آر کے ہٹگی، بسوراج کمنور، ڈاکٹر کلشیٹی، ڈاکٹر شرنپا سعیدہ پورہ، ڈاکٹر سنگیتا کٹیمنی، ڈاکٹر ماجد داغی رکن کلیان کرناٹک پردیشدا اتہاس رچنا سمیتی (حکومتِ کرناٹکا)، ڈاکٹر منظور احمد دکنی، پروفیسر برادر، رینوکا سنگھے جیسے مفکرین اور دانشور، ڈاکٹر گاندھی جی مولکیری، ڈاکٹر ملیکارجن شیٹی، ڈاکٹر ہرش وردھن، ڈاکٹر آنند سدامنی اور دیگر موجود تھے۔ علاوہ ازیں شرانو آئی ٹی،ا متحانا ناٹ گیری، منجوناتھ نالوارکر، سچن فرحت آباد، گوپال ناٹیکر، دتو شیولنگپا بھنڈک، منوہر بیرنوار، بھاسگی، روی دیگوا، آنند کاپنور اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ بھیما شیٹی مکا، بابو راؤ گنوار، راجو جین، گریش گوڑا انعامدار، بھیما راؤ کنڈلی، مالکنی، اسلم چونگے، صابر علی، بابا فخرالدین، جے راج کین گیکر، ڈاکٹر سی سی ننگنا وغیرہ بھی موجود تھے۔